ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پور میں تشدد تھم گیا،کشید گی برقرار، جمعہ کو بھی اِکا دُکا جھڑپیں، 13؍ ہلاک

منی پور میں تشدد تھم گیا،کشید گی برقرار، جمعہ کو بھی اِکا دُکا جھڑپیں، 13؍ ہلاک

Sat, 06 May 2023 19:55:34    S.O. News Service

امفال،6؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) دو دنوں کے شدید تشدد کے بعد جمعہ کو منی پور میں تشدد پر قابو پالیاگیا ہے۔اس کیلئے ریاست کے16 میں سے 9 اضلاع میں کرفیو نافذ کیاگیاہے اور انٹرنیٹ کو آئندہ 5 دنوں کیلئے بند کردیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی  فوج اور آسام رائفلز کے 10 ہزار جوانوں کو پوری ریاست میں تعینات کیاگیاہے۔ حالات پر قابو پانے  اور کمان اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے  جمعرات کو ہی مرکز نے منی پور میں دفعہ 355 نافذ کردی ہے جس کی روسے اسے ریاست کو داخلی خلفشار اور بیرونی جارحیت  سے بچانے کیلئے خصوصی اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں۔ 9 ہزار متاثرہ افراد کو جمعرات کو ہی محفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیاتھا مگر بتایا جارہاہے کہ 20 ہزار افراد تشدد سے  متاثر ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں پھنس گئے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق وہ صورتحال پر مسلسل اور کڑی نظر رکھے ہوئے  ہے۔ 

منی پور میں فوج نے ایک طرح سے کمان سنبھال لی ہے جس کے بعدکشیدگی برقرار ہے مگر تشدد پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ جمعہ کو دن کے ابتدائی گھنٹوں میں تشدد کی اکا دکا وراداتوں کے علاوہ کہیں سے کوئی خبر نہیں ملی ہے۔  ہندوستانی فوج نے جمعہ کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی پور کی صورتحال کو تمام فریقین کی طرف سے مربوط کارروائی کے ذریعے قابو میں لایا گیا ہے۔ فوج نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے تمام برادریوں کے شہریوں کا انخلاء رات بھر جاری رہا اور چورا چند پور اور دیگر حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کیا گیا۔

قبل ازیں شمال مشرقی سرحدی ریلوے نے   امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر منی پور جانے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ ہندوستانی فوج نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ صرف سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع سے ملنے والی خبروں  پر بھروسہ کریں۔فوج نے ٹویٹ کرکے آگاہ کیا ہے کہ ’’منی پور میں سیکوریٹی کی صورتحال پر دشمن عناصر کی طرف سے آسام رائفلز کی پوسٹ پر حملے کی جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں۔ ہندوستانی فوج سبھی سے درخواست کرتی ہے کہ وہ صرف سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع سے مواد پر بھروسہ کریں۔‘‘

بدھ اور جمعرات کو 48 سے زائد گھنٹوں تک چلنے والے تشدد میں حالانکہ 13 ہلاکتوں کی ہی تصدیق کی گئی ہے تاہم اس تعلق سے متضاد رپورٹیں مل رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہیںتاہم پولیس اس کی تصدیق کرنے سے گریز کررہی ہے۔ امپھال کے مغربی ضلع لنگول کے تشدد زدہ علاقوں میں  پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنےا ور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ذمہ داری فوج کی سکھ رجمنٹ انجام دے رہی ہے۔ متاثرین کو لیما کھونگ فوجی کیمپ میں منتقل کیا جارہاہے۔ 

منی پور میں تشدد کی پہلی واردات چوراچند پور میں   نکالی گئی ٹرائبل سولیڈیریٹی مارچ کے دوران پیش آئی۔ یہ مارچ طلبہ نے ریاست کے میتی سماج کو شیڈولڈ ٹرائب کا درجہ دینے  کے مطالبے کے خلاف نکالا تھا۔ اس میں ناگا اور کوکی باشندے شامل تھے جو میتی سماج کو قبائل کا درجہ دینے  کے خلاف ہیں۔ یہ سماج منی پور کی آبادی کا ۵۳؍ فیصد حصہ  ہے۔گزشتہ ماہ  منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ میتی سماج کو ایس ٹی کا درجہ دینے کیلئے مرکز کو ۴؍ ہفتوں کے اندر اندر تجویز روانہ کرے۔ 


Share: